صحرا کی شام بہت خاموش ہوتی ہے۔

سورج آہستہ آہستہ ریت کے ٹیلوں کے پیچھے چھپ جاتا ہے،

اور آسمان پر سنہری، نارنجی اور گلابی رنگ بکھر جاتے ہیں۔

ہوا ٹھنڈی ہونے لگتی ہے اور قافلے اپنا پڑاؤ ڈالتے ہیں۔

مسافر آگ کے گرد بیٹھ کر دن بھر کی باتیں دہراتے ہیں۔

کوئی پانی کے کنویں کا ذکر کرتا ہے، کوئی راستے کی مشکلات کا۔

پھر رات آتی ہے، اور ستارے ایک ایک کر کے روشن ہو جاتے ہیں۔

یہی ستارے صدیوں سے مسافروں کو راستہ دکھاتے آئے ہیں۔

آج ہم بھی اسی سفر کی ایک کہانی سنانے بیٹھے ہیں،

ایک ایسی کہانی جو صبر، امید اور حوصلے سے بھری ہے۔

تو آئیے، آرام سے بیٹھیے، اور ہمارے ساتھ اس سفر پر چلیے۔