شاعری، اسٹیٹس اور پیغاماتتقریباً ۴ منٹ

علامہ اقبال کی شاعری: طلبہ کے لیے ۲۰ آسان دو مصرعے اشعار (مطلب کے ساتھ)

Allama Iqbal poetry in Urdu, 2 lines for students (with meaning)

علامہ اقبال کے اشعار تقریر، مضمون اور اسٹیٹس، تینوں کی جان ہیں۔ یہاں ان کے ۲۰ ایسے اشعار ہیں جو آسانی سے یاد ہو جاتے ہیں، ہر ایک کے ساتھ سادہ مطلب تاکہ طلبہ سمجھ کر پڑھیں۔

ہر شعر کے نیچے دو بٹن ہیں: «کاپی کریں» اور «اسٹیٹس بنائیں»۔ دوسرا بٹن شعر کو اسٹیٹس میکر میں کھول دیتا ہے، جہاں آپ اسے خوبصورت نستعلیق میں تصویر یا ویڈیو بنا کر شیئر کر سکتے ہیں۔

خودی اور ہمت کے اشعار

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

علامہ اقبال

مطلب: اپنی ذات اور کردار کو اتنا بلند کرو کہ تمہاری مرضی بھی اہمیت رکھے۔

اسٹیٹس بنائیں

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

علامہ اقبال

مطلب: منزل یہاں ختم نہیں ہوتی؛ آگے اور بڑے مقاصد تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔

اسٹیٹس بنائیں

تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا

ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں

علامہ اقبال

مطلب: نوجوان شاہین کی طرح ہے؛ اس کا کام اونچی اڑان ہے، رکنا نہیں۔

اسٹیٹس بنائیں

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

علامہ اقبال

مطلب: جب نوجوانوں میں حوصلہ جاگتا ہے تو وہ بڑے خواب دیکھتے ہیں۔

اسٹیٹس بنائیں

نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر

تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

علامہ اقبال

مطلب: آرام دہ زندگی کے بجائے محنت اور خود داری کی زندگی اپناؤ۔

اسٹیٹس بنائیں

قوم اور وطن کے اشعار

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا

علامہ اقبال

مطلب: قوم کی ترقی ہر فرد کی محنت پر منحصر ہے؛ ہر شخص اہم ہے۔

اسٹیٹس بنائیں

نہیں ہے نا امید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

علامہ اقبال

مطلب: حالات کتنے ہی خراب ہوں، تھوڑی سی توجہ سے قوم پھر سے ترقی کر سکتی ہے۔

اسٹیٹس بنائیں

یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم

جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

علامہ اقبال

مطلب: پختہ یقین، مسلسل محنت اور محبت ہی زندگی کی جنگ کے ہتھیار ہیں۔

اسٹیٹس بنائیں

ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ

پیوستہ رہ شجر سے، امیدِ بہار رکھ

علامہ اقبال

مطلب: اپنی قوم سے جڑے رہو؛ درخت سے جڑی شاخ ہی بہار میں ہری ہوتی ہے۔

اسٹیٹس بنائیں

اٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے

مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

علامہ اقبال

مطلب: اٹھو، زمانہ بدل رہا ہے اور اب تمہارا وقت آ گیا ہے۔

اسٹیٹس بنائیں

سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

علامہ اقبال

مطلب: سچائی، انصاف اور بہادری اپناؤ، تب ہی دنیا کی رہنمائی کر سکو گے۔

اسٹیٹس بنائیں

کردار، علم اور عمل کے اشعار

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

علامہ اقبال

مطلب: انسان اپنے اعمال سے اپنی زندگی کو اچھا یا برا بناتا ہے۔

اسٹیٹس بنائیں

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی

تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن

علامہ اقبال

مطلب: اپنے اندر جھانکو اور خود کو پہچانو؛ یہی زندگی کا راز ہے۔

اسٹیٹس بنائیں

نگہ بلند، سخن دلنواز، جاں پرسوز

یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے

علامہ اقبال

مطلب: اچھے رہنما کی نظر بلند، بات نرم اور دل درد مند ہوتا ہے۔

اسٹیٹس بنائیں

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

علامہ اقبال

مطلب: سچے رہنما اور با بصیرت لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔

اسٹیٹس بنائیں

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

پر نہیں طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے

علامہ اقبال

مطلب: سچے دل سے کہی بات ضرور اثر کرتی ہے، چاہے وہ سادہ ہو۔

اسٹیٹس بنائیں

بچوں کے لیے دعا اور محبت کے اشعار

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری

زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری

علامہ اقبال

مطلب: میری زندگی شمع کی طرح دوسروں کو روشنی دینے والی ہو۔

اسٹیٹس بنائیں

ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا

درد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا

علامہ اقبال

مطلب: میرا کام کمزوروں اور دکھی لوگوں کی مدد کرنا ہو۔

اسٹیٹس بنائیں

چین و عرب ہمارا، ہندوستاں ہمارا

مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا

علامہ اقبال

مطلب: ترانۂ ملی کا شعر: ایک امت کا پیغام۔

اسٹیٹس بنائیں

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں

علامہ اقبال

مطلب: عورت کے وجود سے دنیا میں رنگ اور زندگی میں جذبہ ہے۔ ماں کے دن کی تقریر کے لیے بہترین۔

اسٹیٹس بنائیں

اشعار کو تقریر میں کیسے استعمال کریں

  • تقریر کے آغاز میں ایک شعر سامعین کی توجہ کھینچ لیتا ہے۔
  • ہر بڑے نکتے کے بعد ایک شعر رکھیں، مگر پوری تقریر میں تین یا چار سے زیادہ نہیں۔
  • شعر سے پہلے ایک لمحہ رکیں اور دوسرا مصرع زور دے کر پڑھیں۔
  • اختتام پر «ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں» جیسا پرامید شعر رکھیں۔

عام سوالات

+علامہ اقبال کا سب سے مشہور شعر کون سا ہے؟

«خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے، خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے» شاید ان کا سب سے مشہور شعر ہے۔

+کیا ان اشعار کو اسٹیٹس پر لگا سکتے ہیں؟

جی ہاں۔ علامہ اقبال کی شاعری عوامی ملکیت ہے۔ «اسٹیٹس بنائیں» سے آپ اسے تصویر یا ویڈیو بنا کر شیئر کر سکتے ہیں۔

+بچوں کے لیے اقبال کی کون سی نظم سب سے آسان ہے؟

«بچے کی دعا» (لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری) بچوں کے لیے سب سے مشہور اور آسان نظم ہے۔

حوالہ جات

تمام مضامین ←