تقاریرتقریباً ۴ منٹ

۲۵ دسمبر یومِ قائد پر تقریر: طلبہ کے لیے ۳ تیار اردو تقاریر

25 December Quaid Day speech in Urdu for students

۲۵ دسمبر ۱۸۷۶ء کو کراچی میں پیدا ہونے والے محمد علی جناح نے اپنی ذہانت، دیانت اور مسلسل محنت سے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک الگ وطن دلایا۔ اسی لیے یہ دن پورے پاکستان میں یومِ قائد کے طور پر منایا جاتا ہے۔

یہاں تین تقاریر ہیں جنہیں آپ جوں کا توں پڑھ سکتے ہیں یا اپنے انداز میں بدل سکتے ہیں۔ «ٹیلی پرامپٹر میں پڑھیں» دبا کر تقریر کو اسٹوڈیو میں کھولیں اور مشق کریں۔

۱۔ چھوٹے بچوں کے لیے (کلاس ۱ تا ۳)

یومِ قائد پر تقریر (چھوٹے بچوں کے لیے)

تقریباً ۱ منٹ

معزز اساتذہ اور میرے پیارے دوستو، السلام علیکم!

آج پچیس دسمبر ہے، ہمارے پیارے قائداعظم کی سالگرہ۔

قائداعظم کا نام محمد علی جناح تھا۔

وہ کراچی میں پیدا ہوئے۔

انہوں نے بہت محنت کر کے ہمیں پاکستان دیا۔

قائداعظم ہمیشہ سچ بولتے تھے اور وقت کی پابندی کرتے تھے۔

انہوں نے ہمیں تین باتیں سکھائیں: ایمان، اتحاد اور تنظیم۔

ہم بھی قائداعظم کی طرح محنت کریں گے۔

پاکستان زندہ باد!

واٹس ایپ

۲۔ کلاس ۴ تا ۸ کے لیے

یومِ قائد پر تقریر (کلاس ۴ تا ۸)

تقریباً ۲ منٹ

جنابِ صدر، معزز اساتذہ کرام اور عزیز ساتھیو، السلام علیکم!

آج کا دن ہماری تاریخ کا روشن دن ہے، کیونکہ آج بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی سالگرہ ہے۔

قائداعظم پچیس دسمبر اٹھارہ سو چھہتر کو کراچی میں پیدا ہوئے۔

انہوں نے لندن سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور ایک کامیاب وکیل بنے۔

مگر انہوں نے اپنی ساری صلاحیتیں اپنی قوم کے لیے وقف کر دیں۔

ان کی قیادت میں چودہ اگست انیس سو سینتالیس کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا۔

قائداعظم نے ہمیں تین سنہری اصول دیے: ایمان، اتحاد اور تنظیم۔

ایمان ہمیں سچائی سکھاتا ہے، اتحاد ہمیں ایک قوم بناتا ہے اور تنظیم ہر کامیابی کی کنجی ہے۔

عزیز ساتھیو! قائداعظم کو سب سے بڑا تحفہ یہ ہے کہ ہم دیانت دار شہری بنیں اور محنت کو اپنا شعار بنائیں۔

شکریہ۔ پاکستان زندہ باد!

واٹس ایپ

۳۔ بڑی کلاسوں کے لیے (پرجوش انداز)

یومِ قائد پر تقریر (بڑی کلاسوں کے لیے)

تقریباً ۳ منٹ

جنابِ صدر، معزز مہمانانِ گرامی، اساتذہ کرام اور میرے ہم وطنو، السلام علیکم!

تاریخ میں کچھ لوگ ایسے آتے ہیں جو تاریخ کا رخ بدل دیتے ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح ایسے ہی رہنما تھے۔

وہ دبلے پتلے جسم کے مالک تھے، مگر ان کا عزم پہاڑوں سے زیادہ مضبوط تھا۔

انگریز حکومت ہو یا مخالف سیاست دان، کوئی بھی انہیں اپنے اصول سے ہٹا نہ سکا۔

ان کی سچائی کا یہ عالم تھا کہ مخالف بھی ان کی دیانت کی گواہی دیتے تھے۔

آخری برسوں میں وہ شدید بیمار تھے، مگر انہوں نے اپنی بیماری کو قوم کی منزل کے راستے میں رکاوٹ نہ بننے دیا۔

آج ہم سوچیں: کیا ہم قائداعظم کے پاکستان کے اصولوں پر چل رہے ہیں؟

انہوں نے ایک ایسے ملک کا خواب دیکھا تھا جہاں انصاف ہو، قانون کی حکمرانی ہو اور ہر شہری کو برابر حقوق ملیں۔

یہ خواب کسی ایک دن کی تقریروں سے پورا نہیں ہوگا، بلکہ ہم سب کی روزانہ کی محنت، ایمان داری اور نظم و ضبط سے پورا ہوگا۔

آئیے آج عہد کریں کہ ہم ایمان، اتحاد اور تنظیم کو صرف نعرہ نہیں، اپنی زندگی کا اصول بنائیں گے۔

شکریہ۔ پاکستان پائندہ باد!

واٹس ایپ

قائداعظم کے بارے میں اہم معلومات (تقریر کے لیے)

  • پیدائش: ۲۵ دسمبر ۱۸۷۶ء، کراچی
  • تعلیم: قانون کی تعلیم لنکنز اِن، لندن سے
  • لقب: قائداعظم (عظیم رہنما) اور بابائے قوم
  • اصول: ایمان، اتحاد، تنظیم
  • پاکستان کے پہلے گورنر جنرل
  • وفات: ۱۱ ستمبر ۱۹۴۸ء، کراچی

عام سوالات

+یومِ قائد کیوں منایا جاتا ہے؟

۲۵ دسمبر قائداعظم محمد علی جناح کا یومِ پیدائش ہے۔ اس دن قوم بانیِ پاکستان کی خدمات کو یاد کرتی ہے اور پاکستان میں عام تعطیل ہوتی ہے۔

+قائداعظم کے تین اصول کون سے ہیں؟

ایمان، اتحاد اور تنظیم۔

+اسکول کی تقریر کے لیے کون سی تقریر مناسب ہے؟

پرائمری کے لیے پہلی، مڈل کے لیے دوسری اور میٹرک یا کالج کے لیے تیسری تقریر بہتر ہے۔

حوالہ جات

تمام مضامین ←